السلام علیکم
ارے ناداں مرے سر کی لگانا سوچ کے قیمت
یہ وہ سر ہے جسے ظالم سے ٹکرانے کی عادت ہے
خوب آتا ہے تجھے زخمی دلوں سے کھیلنا لیکن
اسے زخموں پر تازہ پھول برسانے کی عادت ہے
طبیعت میں تری ظالم جاپانی ہیں جفائیں ہیں
اسے غم پر تڑپنے اور تڑپانے کی عادت ہے تری تری تو بزدلی کی داستانیں ہیں زبانوں پر اسے سچ کے لئے میدان میں ڈٹ جانے کی عادت ہے یہ سر ہے کہ جو باطل کے آگے جھک نہیں سکتا مگر سجدے میں خود کو آپ کٹکو کٹوانے کی عادت ہے پسند آتا ہے تجھ کو زندگی کا ہر نیا فیشن اسے ماضی کی افسانوں کو دہرانے کی عادت ہے پسند آتا ہے تجھ کو زندگی کی ہر نیا فیشن ایماں سے ماضی کی افسانوں کو دہرانے کی عادت ہے تیرا ہے مشغلہ ہردم فساد فی سبیل اللہ اسے تو گے سوائے حالات سو جانے کی عادت ہے تری خواہش تو ہے طاغوت کا ہی دور دور دور ابو اسحق کا علم دنیا پہل ہرانے کی عادت ہے تاریکیوں جان نکل جاتی ہے انوار موت کے ڈر سے اسے تو ذکر منتقل پر مچل جانے کی عادت ہے
No comments:
Post a Comment