Sunday, January 20, 2019

speach testing

السلام علیکم 

ارے ناداں مرے سر کی لگانا سوچ کے قیمت 
یہ وہ سر ہے جسے ظالم سے ٹکرانے کی عادت ہے
      خوب آتا ہے تجھے زخمی دلوں سے کھیلنا لیکن 
اسے زخموں پر تازہ پھول برسانے کی عادت ہے 
                       طبیعت میں تری ظالم جاپانی ہیں جفائیں ہیں 
اسے غم پر تڑپنے اور تڑپانے کی عادت ہے تری تری تو بزدلی کی داستانیں ہیں زبانوں پر اسے سچ کے لئے میدان میں ڈٹ جانے کی عادت ہے یہ سر ہے کہ جو باطل کے آگے جھک نہیں سکتا مگر سجدے میں خود کو آپ کٹکو کٹوانے کی عادت ہے پسند آتا ہے تجھ کو زندگی کا ہر نیا فیشن اسے ماضی کی افسانوں کو دہرانے کی عادت ہے پسند آتا ہے تجھ کو زندگی کی ہر نیا فیشن ایماں سے ماضی کی افسانوں کو دہرانے کی عادت ہے تیرا ہے مشغلہ ہردم فساد فی سبیل اللہ اسے تو گے سوائے حالات سو جانے کی عادت ہے تری خواہش تو ہے طاغوت کا ہی دور دور دور ابو اسحق کا علم دنیا پہل ہرانے کی عادت ہے تاریکیوں جان نکل جاتی ہے انوار موت کے ڈر سے اسے تو ذکر منتقل پر مچل جانے کی عادت ہے